ایسی تیسی



انڈیا کے شاعر نشترؔ امروہوی نے اپنی نظم "ایسی تیسی" میں سب کی بہت خوبصورتی سے ایسی تیسی کردی۔
آپ بھی ملاحظہ کریں اور محظوظ ہوں۔

نشترؔ امروہوی نے بڑی خوبصورتی سے آج کل کے حالات، سیاست، وطن، کرپشن اور معاشرےکی مزاحیہ انداز میں بھرپور عکاسی کی ھے۔ انہوں نے اس نظم میں ایسے شعر کہے ہیں کہ آپ ہنستے ہنستے یک دم رونا شروع ہوجائیں گےاور آپ کے قہقہے اور واہ واہ تو ضرور نکلے گی۔ 
 
"ایسی تیسی "
آج کل نفع کی نقصان کی ایسی تیسی
آپ کے مان کی سمان کی ایسی تیسی
اب کوئی بھی کام ہو رشوت کی بنان نا ممکن
آپ کی جان کی پہچان کی ایسی تیسی
ایک بیٹی کے سوا کچھ نہ دیا سسرے نے
یہ ھے سامان تو سامان کی ایسی تیسی
گامزن ہم ہیں کرپشن میں ترقی کی طرف 
چین کی روس کی جاپان کی ایسی تیسی 
پندرہ سو کی جگہ دو سو روپے پکڑا دو
پھر جو کٹ جائے تو چالان کی ایسی تیسی
گڑبڑا دے جو مہینے کا بجٹ دو دن میں
ایسے آجائیں جو مہمان کی ایسی تیسی
اپنے لیڈر جو اتر آئیں اداکاری پر
شاہ رخ خان کی سلمان کی ایسی تیسی
شعر بے بہر پڑھو شاعر اعظم بن جائو
سارے اوزان کی ارکان کی ایسی تیسی
چند سکوں کے عیوض بیچ دیا جس نے وطن
ایسے ہندو کی مسلمان کی ایسی تیسی
جو بھی نشتر تیری اس نظم میں ڈھونڈے کیڑے
ایسے ہر صاحبان دیوان کی ایسی تیسی 

مجھے اس نظم میں ان کے وہ شعر زیادہ پسند آئے ہیں جن میں انہوں نے سیاست، کرپشن اور معاشرے کی بات کی ہے، ویسے پوری نظم ہی  لاجواب ھے۔آپ بھی کمنٹ کرکے بتائیں آپ کو کونسا شعر پسند آیا ھے۔



Comments